توہینِ رسالت اور توہین مذہب کے الزام میں قید جوڑے شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینوئل کو لاہور ہائی کورٹ نے بری کر دیا

توہین رسالت اور توہین مذہب کے الزام میں سات سال سے قید مسیحی جوڑے شگفتہ کوثر اور شفقت ایمینوئل کے وکیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے اُنھیں بے قصور قرار دیتے ہوئے بری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

2014 میں سیشن کورٹ کی طرف سے اس جوڑے کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس وقت ان کے خلاف چلائے گئے مقدمے میں یہ الزام ثابت ہوا تھا کہ جس موبائل نمبر سے مقامی مسجد کے امام کو پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز میسیجز بھیجے گئے تھے وہ نمبر ان کے نام پر رجسٹر تھا۔

تاہم عدالت نے استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کو ’ناقص‘ قرار دیا ہے۔ ملزمان کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک کا کہنا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے مطابق استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ مذکورہ سِم کارڈ کا اس جوڑے سے کوئی تعلق تھا۔

یہ بھی چیک کریں

آئی ایم ایف پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے ساتھ کام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے