پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے قومی خزانے پر 75 ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان

اگر حکومت آئی ایف کی شرائط کے تحت پرائس ڈیفرنشل کلیم کے طور پر آئل کمپنیوں کو ادائیگیوں میں کوئی سبسڈی دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 86 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے جس میں ٹیکس شامل نہیں ہوگا جبکہ سبسڈی فراہم کرنے کی صورت میں قومی خزانے پر 75 روپے بوجھ پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں مقیم آئی ایم ایف کے نمائندے استھر پریز روئز کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 18 مئی سے دوحہ میں موجود پاکستانی حکام کے ساتھ اسٹاف میشن کا آغاز کرے گی۔

آئی ایم ایف اور مفتاح اسماعیل کی زیر قیادت اقتصادی ٹیم نے اپریل کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف فنڈ پروگرام کو بحال کرتے ہوئے 2 ارب ڈالر کی توسیع اور آئندہ بجٹ میں ایندھن اور توانائی کی سبسڈی سمیت دیگر اقدامات کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کے ساتھ ایک سال کی توسیع پر اتفاق کیا گیا۔

حکومت اس وقت پیٹرول پر 31 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 73 روپے فی لیٹر سبسڈی فراہم کر رہی ہے علاوہ ازیں بجلی پر فی یونٹ 5 روپے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اوگرہ کے حساب کے مطابق اگر درآمدات کے اخراجات صارفین تک پہنچائے جائے تو پیٹرول پر 47 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر تقریباً 86 روپے فی لیٹر اضافہ ہوگا۔

اسی طرح مٹی کے تیل اور لائٹ اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بالترتیب 52 روپے اور 69 روپے فی لیٹر اضافے کا حساب لگایا گیا ہے جس میں ٹیکس شامل نہیں ہوگا۔

اس عمل کے لیے رواں ماہ کے اختتامی پندرہ روز کے لیے پی ڈی سیز کے طور پر آئل کمپنیز کو قومی خزانے سے تقریباً 75 ارب روپے کی اضافی رقم ادا کرنی ہوگی۔

اوگرہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس ریٹ کی موجودہ شرح جو اس وقت زیرو ہے، اس کے مطابق تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 46 سے 86 فیصد فی لیٹر اضافہ ہونا چاہیے تاکہ سبسڈی کے کسی عنصر کے بغیر صارفین سے بریک ایون (وہ قیمت جس میں نافع حاصل ہو نہ ہی نقصان کا سامنا کرنا پڑے) قیمت حاصل کی جاسکیں۔

یہ بھی چیک کریں

حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ 16 نومبر سے ملک میں …