قادیانی مبلغ کو قید کے علاوہ اپنی جنسی حوس کا نشانہ بننے والی بچیوں کومالی معاوضہ بھی دینا ہوگا



(ویب ڈیسک) قادیانی مبلغ کو امریکی عدالت میں جنسی طور پرحراساں کرنے پر دو نابالغ بچیوں کو 21374 ڈالر بطور مالی معاوضہ ادا کرنا ہوگا جس پر اس نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ عدالت اس کو پیرکے روز دوپہر بارہ بجے سزا سنائے گی

16 ماہ سے امریکی جیل میں قید کینیڈین قادیانی مربی لقمان نے اپنے وکیل کے ذریعے 12 صفحات پر مشتمل میمورنڈم میں عدالت سے اس کو کم سزا دینے کی درخواست کی ہے۔ مدعا علیہ نے یہ اعادہ اپنے پانچ متاثرین میں سے دو کی جانب سے معاوضہ کی درخواست پر کیا ہے۔ ایک متاثرہ نے کل $2,624.80 کی رقم کی درخواست کی ہے اور دوسری متاثرہ نے $18,750 کی درخواست کی ہے۔

اس رقم کا انتظام ملزم کے والدین نے کیا ہے اور انہوں نے اس کے وکیل کو اس معاملے میں حتمی فیصلے کے بعد عدالت کے کلرک کو یہ رقم ادا کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے ہیں۔

عدالت سے کم سزا کی استدعا کرتے ہوئے قادیانی مبلغ لقمان کے وکیل نے کہا کہ لقمان قادیانی نے اپنے طرز عمل کی پوری ذمہ داری قبول کی ہے اس لیے اس نے اس معاملے میں اقرار جرم کیا ہے۔

انہوں نے کہا، لقمان قادیانی ایک تنہا اور کسی حد تک الگ تھلگ رہنے والا بچہ تھا اور اس کا زیادہ تر وقت ٹیلی ویژن یا کمپیوٹر کے سامنے گزرتا تھا۔اس نے اسکول سے باہر کھیلوں، مشاغل یا دیگر کوششوں میں حصہ نہیں لیا۔ اس نے اپنا زیادہ تر فارغ وقت اپنے بیڈروم میں، اپنے کمپیوٹر پر گزارا، ورچوئل آن لائن دنیا میں سماجی رابطے کی تلاش میں۔

جیسے جیسے لقمان قادیانی کی عمر بڑھتی گئی، اس نے خواتین اور لڑکیوں تک اس طرز عمل سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ایک وقت میں لڑکیوں کے ساتھ جڑنے، ان سے آن لائن بات کرنے، اور جنسی تعلقات میں مشغول ہونے کی عادتیں اس کی مجبوری بن گئی۔ اس نے کہا کہ لقمان قادیانی کے لیئے لڑکیوں کی عمر کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کا عادی رویہ اندھا دھند تھا۔ وکیل نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ اور اومیگل جیسی گمنام ویب سائٹس نے ان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے کافی مواقع فراہم کیے۔

انہوں نے کہا، دیگر تمام معاملات میں، لقمان قادیانی نے قانون کی پابندی کرنے والی، مطالعہ کرنے والی اور خیراتی زندگی گزاری ہے۔ اس نے 2007 میں میپل ہائی اسکول، میپل، اونٹاریو، کینیڈا سے گریجویشن کیا اور 2018 سے جنوری 2021 تک قادیانی جماعت کینیڈاکے ساتھ منسلک رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ شادی شدہ تھا، 2017 سے 2021 کے درمیان 5 سالوں میں اپنی جماعت کے اندر بہت سے مقاصد کے لیے دل کھول کر خیراتی طور پر 20,000 ڈالر سے زیادہ نقد عطیہ کرتا تھا اور اسنے خون کا عطیہ بھی دیا۔

لقمان قادیانی 2017 سے اس معاملے سے متعلق مختلف شکلوں میں حراست میں ہے جب اسے پہلی بار King Cheetah ای میل اکاؤنٹ سے جوڑا گیا تھا۔ اسے 14 جنوری 2021 کو کینیڈا میں گرفتار کیا گیا تھا، اسے قید میں رکھا گیا تھا اور پھر اسے 16 فروری 2021 کو اس کے والد اور بعد میں اس کی اہلیہ کی تحویل میں گھر کی قید میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ حوالگی کی درخواست پر اسے 23 جولائی 2021 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور اس معزز عدالت کے سامنے لایا گیا۔

مدعا علیہ امریکہ پہنچنے کے بعد سے ایلنٹاؤن، پنسلوانیا کے قریب لیہہ کاؤنٹی جیل میں قید ہے اور کبھی بھی کوئی بھی اسے جیل میں ملنے کے لیئے نہیں آیا۔اسکی بیوی نے نے بھی اسکو طلاق دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملزم قادیانی جماعت کے کینیڈا ہیڈکوارٹر پیس ولیج کا رہائشی ہے۔ یہ مبینہ جرائم جون 2014 اور جون 2016 کے درمیان ہوئے، جب لقمان قادیانی کینیڈا کے ایک قادیانی تعلیمی ادارے جامعہ احمدیہ میں قادیانی مشنری بننے کے لیے اپنے سات سالہ شاہد پروگرام کے آخری سال میں تھا۔

ٹورنٹو پولیس نے 24 مارچ 2017 کو اوٹاوا میں نیشنل چائلڈ ایکسپلوٹیشن کوآرڈینیشن سینٹر سے اطلاع ملنے پر لقمان قادیانی کو گرفتار کیا۔ اسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا لیکن بعد میں جنوری 2022 میں گرفتار کر لیا گیا جب اس سلسلے کا ایک اور کیس سامنے آیا۔ تب سے وہ زیر حراست ہے.

یہ اہم ویڈیوز بھی دیکھیں

یہ بھی چیک کریں

آئی ایم ایف پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے ساتھ کام …