وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے دائر اپیلیں واپس لے لیں

وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے دائر اپیلیں واپس لے لیںپی ٹی آئی کے دور حکومت میں وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔

سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم سے رابطہ کرکے مذکورہ اپیلیں واپس لینے کی درخواست کی تھی۔جس کے بعد وزیراعظم نے وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کو ہدایت جاری کی۔

(ویب ڈیسک اسلام آباد)وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں اپیلیں واپس لے لیں۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی درخواست پر وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں مذکورہ اپیلیں واپس لینے کی ہدایت جاری کی۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے 09 جون 2021 کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں اپیلوں کی سماعت آج(منگل کو)ہوئی۔فاضل جسٹس سید منصور علی شاہ اور فاضل جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کی جانب سے دائر کی گئیں تین اپیلوں کی سماعت کی۔وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اور فریق مخالف کی جانب سے جسٹس(ر)شوکت عزیز صدیقی فاضل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سینئر قانون دان سینیٹر کامران مرتضی بھی وفاق کی طرف سے خصوصی طور پر فاضل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر کامران مرتضی ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں مذکورہ تینوں اپیلیں واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔موجودہ وفاقی حکومت گزشتہ دور حکومت میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں مذکورہ اپیلوں کی پیروی نہیں کرنا چاہتی۔لہذا فاضل عدالت مذکورہ تینوں اپیلیں واپس لینے کی اجازت دے۔اس حوالے سے ہم نے تحریری درخواست بھی دائر کی ہے۔کامران مرتضی ایڈووکیٹ کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے فاضل عدالت نے وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کی جانب سے گزشتہ دور حکومت میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں مذکورہ تینوں اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی۔اس موقع پر تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے مرکزی صدر علامہ قاری نوید مسعود ہاشمی،تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ حافظ سعد حسین رضوی،اہلسنت والجماعت کے صدر علامہ اورنگزیب فاروقی اور دیگر مذہبی رہنماء بھی احاطہ عدالت میں موجود تھے۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف سے رابطہ کرکے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لئے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں مذکورہ اپیلیں واپس لینے کی درخواست کی تھی۔مولانا فضل الرحمن نے مذکورہ اپیلیں واپس لینے کے متعلق قانونی نکات پر غور کے لئے معروف قانون دان سینیٹر کامران مرتضی کو بھی خصوصی طور پر کوئٹہ سے اسلام آباد طلب کیا تھا۔وزیراعظم نے سربراہ جے یو آئی کی جانب سے رابطے کے بعد وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کو گزشتہ دور حکومت میں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں مذکورہ اپیلیں واپس لینے کی ہدایت جاری کی

سینئر تجزیہ کار حسن رانا

اس اہم معاملے پر سینئر تجزیہ کار اور ایڈیٹر کے ٹی وی نیوز حسن رانا کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے دائر اپیلوں کو واپس لینے کا فیصلہ خوش آئیند ہے اور اس تمام تر معاملے میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن اور راو عبد الرحیم ایڈوکیٹ کا کردار بہت اہم رہا ہے اور ان اپیلیوں کو واپس لینے کا کریڈیٹ ان دونون شخصیات کو سب سے زیادہ جاتا ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کو دی جانے والی ڈائریکشنز پر عمل درامد شروع کیا جائے اور ساتھ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کو روکنے کے حوالے سے ٹھوس حکمت عملی بھی بنائی جائے۔

اپیل واپس لینے کا نوٹیفیکیشن
یہ اہم ویڈیو بھی دیکھیں

یہ بھی چیک کریں

پیٹرول مزید 30 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان

مہنگائی کے ستائے عوام پر ایک بار پھر پیٹرول بم گرانے کی تیاری ہورہی ہے …