پاکستان چین شراکت داری خطےمیں امن واستحکام کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہے،وزیرخارجہ

اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان چین سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری“ خطے میں امن واستحکام کا ایک بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سات دہائیوں کا ہمارا یہ سفر عظیم یکجہتی، گہرے وباہمی اعتماد اور ہم آہنگی پر مشتمل ہے۔ ہم پختہ عزم کے ساتھ سی پیک پر پیشرفت، زیر تعمیر منصوبہ جات کی بروقت تکمیل اور معاشی وسماجی ترقی پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔ ہم ترقیاتی شراکت داری، رابطوں کی استواری اور علاقائی امن کے ذریعے پاکستان کو ترقی کی جانب گامزن اور معاشی طورپر مضبوط وفعال ملک بنانا چاہتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے یہ بات ’پاکستان چین سترسال: ایک منفرد دو طرفہ شراکت داری‘ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین تہذیبی شراکت دار ہیں۔ ہمارے تاریخی تعلقات قدیم شاہراہ ریشم کے دور سے استوار ہیں۔ ہم نے کلیدی مفاد کے معاملات پر ایک دوسرے کی حمایت کی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ’ون چائنا پالیسی‘ (چین کی وحدت کی پالیسی) کو بالا دست ومقدم رکھا ہے جبکہ تائیوان، تبت، سنکیانگ، ہانگ کانگ اور جنوبی چین کے سمندری معاملے پر چین کی حمایت کی ہے۔ چین ہماری کلیدی سٹرٹیجک، معاشی اور ترقیاتی ترجیحات میں ہمیشہ ہمارے شانہ بہ شانہ کھڑا رہا ہے۔ اپنے اصولی اور منصفانہ موقف کو برقرار رکھتے ہوئے چین نے تنازعہ جموں وکشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری ”سدا بہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت داری“ خطے میں امن واستحکام کا ایک بنیادی ذریعہ بن چکی ہے۔ پاکستان اور چین کی دوستی دونوں ممالک کے عوام کےدل ع دماغ میں گہری جڑیں رکھتی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کورونا وبا پھوٹنے کے بعد چین کی کورونا کے خلاف جنگ میں مدد کے لئے پاکستان نے فوری طورپر طبی سامان چین روانہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح پاکستان میں کورونا وبا کی روک تھام کے لئے چین نے طبی امدادی سامان سے بھرے 60 سے زائد جہاز ہمیں فراہم کئے۔ کورونا ویکسین میں ہمارا تعاون بھی مثالی رہا ہے۔چین نے ہمیں کورونا ویکسین کی 35 لاکھ خوراکیں (ڈوزز) بطور تحفہ فراہم کیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تجارتی بنیادوں پر بھی ویکسین حاصل کررہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت نے چین کی مدد سے ’پاک۔وَیک‘ ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری وپیداوار کا بھی آغاز کردیا ہے۔ پاکستان کی توجہ جیوپالیٹکس سے جیو اکنامکس کی طرف تبدیل ہوچکی ہے۔ہم ترقیاتی شراکت داری، رابطوں کی استواری اور علاقائی امن کے ذریعے پاکستان کوترقی کی جانب گامزن اور معاشی طورپر مضبوط وفعال ملک بنانا چاہتے ہیں۔’بی۔آر۔آئی‘ کے مثالی اور ہراول منصوبے کے طورپر سی پیک ہماری جیواکنامکس کی ترجیحات میں معاون و مددگار ہے۔

یہ بھی چیک کریں

پاکستان میں مزید ایک کروڑ افراد کا غربت کی لکیر سے نیچے جانے کا خدشہ ہے: عالمی بینک

عالمی بینک کی پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی …