آزاد کشمیر حکومت نے مسلمانوں کے نکاح فارم میں ختمِ نبوت کا حلف نامہ لازمی قرار دے دیا

مظفرآباد (نمائندہ کےٹی وی نیوز) آزاد ریاست جموں و کشمیر حکومت نے مسلمانوں کے نکاح کے فارم میں ختمِ نبوت کا حلف نامہ لازمی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سال 2020 میں آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے تحریکِ تحفظ ختمِ نبوت آزاد کشمیر کی جانب سے دائر مقدمہ بعنوان "عبدالوحید قاسمی وغیرہ بنام آزاد حکومت وغیرہ” میں دیگر کے علاوہ ایک ڈائریکشن یہ بھی جاری کی تھی کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین ازدواجی بندھن کے عمل کو روکنے کے لیئے اقدامات اٹھائے جائیں, عدالت کے اس فیصلہ کے بعد آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے بھی اسی ضمن میں ایم.ایل.اے پیر علی رضا بخاری کی طرف سے پیش کردہ قراداد نمبر 200 کے زریعہ یہ فیصلہ کیا کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے مابین ازدواجی بندھن کو روکنے کے لئے سختی سے عمل درامد ہونا چاہیے.

عدالتی فیصلہ اور اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں آزاد کشمیر کے محکمہ امورِ دینیہ نے 28 ستمبر 2021 کو ایک نوٹیفکیشن کے زریعہ قواعد جاری کرتے ہوئے ختمِ نبوت کے حلف نامہ کو نکاح کےفارم میں ایک لازمی شرط کے طور پر نافذ کر دیا تھا جس کے تحت ہر مسلمان دولہا اور دلہن کو نکاح سے پہلے اس بات کا حلفاً اقرار کرنا ہوگا کہ وہ قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ خیر القرون سے قائم مسلمان ہونے کی ضرورت دینیہ میں سے کسی ضرورت کا انکار کرتے ہیں.

نوٹیفکیشن کی اجراء کے بعد اس پر عمل درآمد کے لیئے محکمہ مذہبی امور کے ناظم نے ضلع و تحصیل مفتیوں کو عمل درآمد کے لیئے مکتوب تحریر کر دیا ہے, تحصیل دھیرکوٹ کے تحصیل مفتی تنویر احمد نے اپنی تحصیل کی سطح پر ختمِ نبوت کا حلف نامہ نافذ کرتے ہوئے ناظم مذہبی امور کے احکامات پر عمل درآمد کردیا ہے جب کہ باقی مفتیانِ عظام کی طرف سے بھی کوششیں جاری ہیں۔

مفتی تنویر احمد نے نکاح خوانوں کے نام یہ سرکاری حکم جاری کردیا ہے کہ آئیندہ کوئی بھی نکاح ختمِ نبوت کے حلف نامہ کے بغیر رجسٹرڈ نہیں کیا جائے گا.

یہ بھی چیک کریں

چناب نگر میں مسلمان سیاستدانوں کی جانب سے قادیانیت نوازی پر اہل اسلام میں شدید تشویش

چناب نگر میں قادیانیوں کی دعوت طعام میں مسلمان سیاستدانوں اور تاجروں کی شرکتقادیانیوں پر …