اسرائیلی سافٹ ویئرکے ذریعے بھارتی حکومت کی پاکستان سمیت ہزاروں افراد کی جاسوسی

اسرائيلی سافٹ ويئر کے ذريعے بھارتی حکومت کی جانب سے وزيروں، صحافيوں اور تاجروں سمیت پڑوسی ممالک کی اہم شخصیات کی جاسوسی بھی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

بھارت کی جانب سے اسرائیلی کمپنی کے سافٹ ویئر کے ذریعے ہزاروں افراد کی جاسوسی اور ان کے فونز ہیک کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اہم شخصیات اور صحافیوں کی جاسوسی پر اپوزيشن ليڈر راہول گاندھی اور ممبئی پريس کلب نے بھی شديد مذمت کی ہے۔

ممبئی پريس کلب کے مطابق مودی حکومت نے اب تک جاسوسی کی تصديق يا ترديد نہيں کی، ليکن پيگيسز سافٹ ویئر صرف بھارتی حکومت کو بيچا گيا ہے، معاملے کی آزادانہ تحقيقات کا مطالبہ کيا جارہا ہے۔

اسرائيلی فرم کے اسپائی ویئر سے سے بھارتی وزراء، صحافيوں اور تاجروں کے فون ہيک کئے گئے، جن فون نمبرز کو ٹارگٹ بنايا گيا وہ اسرائیلی فرم کے ڈيٹا بيس ميں پائے گئے، یہ فہرست بھارتی میڈیا میں لیک ہوگئی۔

دوسری جانب اسرائيلی فرم اين ايس او نے الزام مسترد کرديا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ سافٹ ویئر صرف جرائم پيشہ افراد اور دہشتگردوں پر نظر رکھنے کیلئے ڈيزائن کيا گيا ہے اور انسانی حقوق کا اچھا ريکارڈ رکھنے والے ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بيچا گيا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہیک کئے جانے والے فونز کی فہرست میں زیادہ تر نمبرز میکسیکو کے ہیں جبکہ اس میں پاکستان، مشرق وسطیٰ سمیت کئی ممالک کے نمبرز بھی موجود ہیں۔ 

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے جاسوسی کے اسرائیلی نظام سے متعلق انکشافات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ برطانوی اخبار میں آنے والی رپورٹ پر شدید تحفظات ہیں، بھارتی حکومت نے جاسوسی کیلئے اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال کیا، یہ  سافٹ ویئرصحافیوں اورسیاستدانوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی غیراخلاقی پالیسیوں نے بھارت اورخطے کوخطرے میں ڈال دیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان سمیت کابینہ ارکان کے بھی فون ہیک کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت اسرائیلی کمپنی کے سافٹ ویئر ‘پیگاسس ‘ کے ذریعے وزیراعظم عمران خان سمیت کابینہ ارکان کی فون کالز اور میسجز ریکارڈکرنےکی کوشش کرتارہا ہے۔

یہ بھی چیک کریں

گوادر: طوفانی بارشیں، متعدد علاقے زیر آب، شہری نقل مکانی پر مجبور

گوادر:بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کئی گھنٹوں تک ہونے …