مسلمان خاتون کو دھوکہ دے کر شادی کرنے والا قادیانی گرفتار

دھوکہ باز صغیر نامی قادیانی کی ضمانت منسوخ،پولیس کے حوالے کرنے کا حکم،متاثرہ خاتون کے بھائی نے مقدمہ درج کروایا تھا

کراچی(ویب ڈیسک)مسلمان خاتون کو دھوکہ دیتے ہوئے خود کو مسلمان ظاہر کر کے نکاح کرنے والے قادیانی کو عدالتی احاطے سے گرفتار کر لیا گیا۔


کراچی کے علاقے ماڈل کالونی کی رہائشی خاتون سے صغیر احمد ولد بشیر احمد نامی قادیانی نے فروری 2021 میں نکاح کیا اور خود کو مسلمان ظاہر کیا جس کے خلاف خاتون کے بھائی نے ایف آئی آر درج کروائی۔قادیانی دھوکے باز شخص نے ڈسٹرک کورٹ سے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی تھی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ منظور راجپوت کے مطابق انہوں نے عدالت میں پیش ہو کر الیکشن کمیشن کی ووٹنگ لسٹ جمع کروائی جس کے مطابق صغیر احمد قادیانی ہے،اس نے فروری 2021 میں نکاح کیا لیکن اس نے اپنے قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ ستمبر 2022 کا لگایا ہوا ہے گویا نکاح کے وقت یہ شخص قادیانی تھا۔

آئین پاکستان کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں اور مسلمان خاتون کی کسی غیر مسلم مرد سے شادی نہیں ہو سکتی،لہذا ایسے جرم کے مرتکب پر دفعہ 365 اور 493 اے سیکشن لگتی ہے،اس دفعہ کے مطابق کوئی بھی آدمی کسی عورت کو اپنی بیوی کہ کر اس سے ملتا رہے اور جبکہ وہ اسکی بیوی نہ ہو تو اسکے لئے 10 سے 25 سال تک کی سزا ہے۔

صغیر احمد قادیانی نےقانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا نکاح نامہ مسلم فیلمی لاء 1961 کے تحت رجسٹر کروایا جو کہ سنگین جرم ہے۔چنانچہ ڈسٹرکٹ ایسٹ جج صاحب نے دھوکہ باز قادیانی کی ضمانت منسوخ کر کے اسے ماڈل کالونی پولیس کی تحویل میں دینے کا حکم جاری کیا۔


سینئر تجزیہ کار اور ایڈیٹر کے ٹی وی نیوز حسن رانا کا اس معاملہ پر کہنا ہے کہ قادیانیوں کی جانب سے دھوکہ دیتے ہوئے مسلمان خواتین سے شادی کرنے کے واقعات میں اضافہ نہایت تشویشناک عمل ہے ،اس سے پہلے بھی کے ٹی وی اس قسم کے واقعات کو سامنے لاتا رہا ہے۔ان واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت پنجاب کی طرح پورے پاکستان میں نکاح نامہ کے فارم پرختم نبوت کا حلف نامہ شامل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

یہ بھی چیک کریں

چناب نگر میں مسلمان سیاستدانوں کی جانب سے قادیانیت نوازی پر اہل اسلام میں شدید تشویش

چناب نگر میں قادیانیوں کی دعوت طعام میں مسلمان سیاستدانوں اور تاجروں کی شرکتقادیانیوں پر …