ای سی سی کی جانب سے سینڈک منصوبے کے ٹھیکے میں توسیع کی منظوری

حکومت نے کے-الیکٹرک (کے ای) کو ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس(آر ایل این جی) کی فراہمی کے لیے قیمتوں کے تعین کے طے شدہ اصولوں کے ساتھ موجودہ قانونی فریم ورک میں ترامیم اور موجودہ چینی کانٹریکٹرز کے ساتھ سینڈک کاپر گولڈ پروجیکٹ کے معاہدے میں 15 سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فیصلے وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیے گئے جس میں سیالکوٹ-کھاریاں موٹر وے کی تعمیر کے لیے آپریشنل وائبلٹی گیس فنڈ کے طور پر 6 ارب 94 کروڑ 40 لاکھ روپے کی خودمختار گارنٹی یا اسٹینڈ بائی لیٹر آف کریڈٹ (ایس بی ایل سی) کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی۔

ای سی سی نے کے ای کو پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کی جانب سے یومیہ 150 ملین مکعب فٹ کی فراہمی کے لیے آر ایل این جی کی فروخت کی قیمت کے تعین پر وزارت توانائی کی سمری کی منظوری دی۔

اس سے کے ای کے نئے 900 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے کو چلانے میں ایک اہم رکاوٹ دور ہو جائے گی جس کے 2 میں سے پہلا یونٹ پیداوار کے لیے بلکل تیار ہے۔

فیصلے میں ای سی سی نے پیٹرولیم مصنوعات کے دوسرے شیڈول (پیٹرولیم لیوی) آرڈیننس اور آر ایل این جی کی قیمتوں کے تعین کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز میں ترامیم کی منظوری دی جو اب ای سی سی کے ذریعے منظور شدہ قانونی ریگولیٹری آرڈر کے طور پر جاری کی جائیں گی۔

اب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) موجودہ گائیڈلائنز کے تحت پی ایل ایل اور کے ای کے دستخط کردہ معاہدے کے مطابق ایل این جی کی ڈیلیور کردہ ایکس شپ پرائس کی بنیاد پر آر ایل این جی کی فروخت کی قیمت کا تعین کرے گی۔

دونوں فریقوں (پی ایل ایل اور کے ای) نے تقریباً 2 سال قبل (آر ایل این جی) سپلائی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

آر ایل این جی کی قیمت کو حتمی شکل دیتے وقت اوگرا، پی ایل ایل کی ایل این جی کی درآمد سے متعلقہ لاگت، پورٹ چارجز اور پی ایل ایل کے مارجن کو بھی موجودہ انتظامات کے مطابق قبول کرے گا۔

ای سی سی نے سینڈک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل) اور چین کی میٹالرجیکل کنسٹرکشن کارپوریشن (ایم سی سی) کے درمیان سینڈک کاپر گولڈ پروجیکٹ کے لیے لیز کے معاہدے میں مزید 15 سال یعنی یکم نومبر 2037 تک توسیع کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کی سمری کو بھی منظورکر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ای سی سی نے پیشہ ور ماہر اداروں کے ذریعے سالانہ منصوبے کے مالیاتی تخمینے کا جائزہ لینے کی بھی سفارش کی ہے۔

ایس ایم ایل وفاقی حکومت کا 100 فیصد پبلک سیکٹر ادارہ ہے جو چاغی میں سینڈک کاپر گولڈ منصوبے کے انتظامی امور کا ذمہ دار ہے۔

یہ پروجیکٹ مقامی دھاتوں کی دریافت، کان کنی اور بلسٹر کاپر کی پروسیسنگ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لے کر اب تک اس منصوبے میں تقریباً 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی اور پھربعد میں 31 اکتوبر 2022 تک ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) ڈکلیئر کردیا گیا۔

چینی سرکاری کمپنی (ایم سی سی) نومبر 2001 سے اس منصوبے کو لیز پر چلا رہی ہے۔

مشرف انتظامیہ نے باہمی طور پر متفقہ غیراعلانیہ شرائط کے تحت ٹھیکے میں یکم اکتوبر 2002 کو 10 سال کی توسیع کی تھی۔

ٹھیکے میں 2 مرتبہ 2012 اور 2017 میں 5 سال کے لیے توسیع کی گئی تھی جو کہ اب 31 اکتوبر 2022 کو ختم ہونے والی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

پاکستان کی معاشی ترقی تیز ہورہی ہے اور مہنگائی میں کمی کا امکان ہے: یو این اکنامک سروے جاری

اقوام متحدہ نے اقتصادی سروے جاری کردیا جس میں پاکستان کی معاشی ترقی میں تیزی …