ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

حکومت کی جانب سے 28 فروری تک کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 12 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے ، اضافے کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے کیے گئے وعدے کے مطابق بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اضافی پیٹرولیم لیوی کے اطلاق کے اثرات کو پورا کرنا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق یہ پیٹرولیم مصنوعات کی اب تک کی سب سے زیادہ قیمتیں ہیں اور یہ اضافہ ممکنہ طور پر ایک ہی بار میں کیے جانے والا سب سے زیادہ اضافہ بھی ہے۔

وزارت خزانہ نے قیمتیں بڑھانے کے فیصلے کا اعلان وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے تمام پیٹرولیم مصنوعات پر 4 روپے فی لیٹر لیوی بڑھانے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ جاری توسیع فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا۔

تاہم تمام پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح بغیر کسی تبدیلی کے صفر پر ہی برقرار ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی منظوری دی۔   وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت 147 روپے 83 پیسے فی لیٹر کے بجائے 159 روپے 86 فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جس میں اضافہ 12 روپے 3 پیسے فی لیٹر یا 8.14 فیصد کیا گیا ہے۔

پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 13روپے 92 پیسے سے بڑھا کر 17 روپے 92 پیسے فی لیٹر کردی گئی ہے، حکومت پیٹرول پر 12 روپے فی لیٹر کسٹم ڈیوٹی بھی وصول کر رہی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 53 پیسے فی لیٹر یا 6.6 فیصد کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی ایکس ڈپو قیمت 144 روپے 62 پیسے سے بڑھ کر 154 روپے 15 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

ایچ ایس ڈی پر پیٹرولیم لیوی 12 روپے فی لیٹر جبکہ کسٹم ڈیوٹی 9 روپے 30 پیسے سے بڑھا کر 13 روپے 30 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔

مٹی کے تیل کی ایکس ڈپو قیمت بھی 10 روپے 8 پیسے یا 8.65 فیصد اضافے کے ساتھ 116 روپے 48 پیسے سے 126 روپے 56 پیسے فی لیٹر ہوگئی، مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی ایک روپے سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دی گئی۔

لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی ایکس ڈپو قیمت بھی 9 روپے 43 پیسے یا 8.23 فیصد اضافے کے ساتھ 114 روپے 54 پیسے سے بڑھ کر 123 روپے 97 پیسے تک جا پہنچی ہے، لائٹ ڈیزل آئل پر پیٹرولیم لیوی 5 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔

تمام جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا، جے پی ون 11 روپے فی لیٹر اضافے سے 140.65 روپے جبکہ جے پی ایٹ کی قیمت 7 روپے فی لیٹر اضافے سے 135روپے 72 پیسے تک جا پہنچی ہے۔

علاوہ ازیں ای ٹین فیول (ایتھنول پیٹرول) میں بھی 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 157روپے 35 پیسے ہوگئی ہے، ان تینوں مصنوعات کی قیمت میں 17 فیصد جی ایس ٹی شامل ہے لیکن اس پر پیٹرولیم لیوی صفر ہے۔

قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور یہ 2014 کے بعد سے بلند ترین سطح پر ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2014 میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مقامی قیمتیں 110 سے 120 روپے فی لیٹر کے درمیان تھیں۔

وزارت خزانہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے 31 جنوری کو قیمتوں پر نظر ثانی مؤخر کردی تھی تاہم جی ایس ٹی اور او ایل میں کمی کے ذریعے صارفین کو ریلیف فراہم کیا تھا اور تقریباً 15 ارب روپے کا نقصان برداشت کیا تھا۔

اس وقت پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل سمیت تمام اہم مصنوعات پر 17 فیصد عام جی ایس ٹی کے مقابلے میں جی ایس ٹی صفر ہے، حکومت پیٹرول پر 17 روپے 92 پیسے فی لیٹر، ایچ ایس ڈی پر 13روپے 30 پیسے، ایل ڈی او پر 9 روپے 50 پیسے، مٹی کے تیل پر 5 روپے اور ہائی آکٹین پر 30 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔

یہ بھی چیک کریں

آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر قرض کیلئے بھاری ٹیکس وصولیوں کا پلان تیار

پاکستان نے آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر قرض کی وصولی کے لیے بھاری …