قادیانیت کی تبلیغ اور تحریف شدہ ترجمہ قرآن کیس میں قادیانی عہدیداروں کی درخواست ضمانت سپریم کورٹ سے مسترد

اسلام آباد: قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا مسرور کے سیکریٹری اور قادیانی جماعت کے مرکزی قائد تعلیم کی سپریم کورٹ نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
تحریف شدہ ترجمہ قرآن پاک کو سوشل میڈیا پرکوئز مقابلہ کی صورت میں پھیلانے اور قادیانیت تبلیغ کیس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس منیب اختر،جسٹس مظاہرعلی نقوی پرمشتمل بنچ نمبر 4 کےروبروملزمان کی ضمانت کےحوالےسےاہم سماعت ہوئی۔

قادیانی ملزمان قائدِ تعلیم مجلس خدام الاحمدیہ عثمان احمد , ناظم تعلیم روحان احمد اورایڈیشنل ناظم تعلیم مجلس خدام الاحمدیہ طارق احمد، ظہیراحمد اور شیراز احمدکی طرف سے سپریم کورٹ پاکستان کے وکلا حنا جیلانی، مرزا محمود, عثمان کریم الدین ایڈووکیٹ اور دیگر پیش ہوئے__
جبکہ مدعی مقدمہ ظہیراحمد ،شیراز احمد وغیرہ کی جانب سے سپریم کورٹ کے وکلا جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی، محمد شاہد تصور راؤ اور حکومت پاکستان کی طرف سے راجہ شفقت عباسی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل، ایف آئی اے کی طرف سے نوید اسلم سب انسپکٹر اور لیگل کمیشن آن بلاسفیمی پاکستان کی لیگل ٹیم عدالت میں پیش ہوئی_
معزز ججز صاحبان نےسماعت کے بعد رائے دی کہ ملزمان ضمانت کے حقدار نہیں ہیں لہذا معززعدالت نے مذکورہ ملزمان کی ضمانتیں خارج کردیں۔

اس اہم معاملے پر سینئر تجزیہ کار حسن رانا کا کے ٹی وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ

یہ نہایت ہی اہم کیس ہے جس کی ایف آئی آر 2020 میں سائبر کرائم تھانہ ایف آئی اے میں درج کی گئی تھی۔اس واقعہ میں قادیانی اہم عہدیدار نا صرف قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قادیانیت کی تبلیغ میں ملوث رہے بلک یہ قادیانی ملزمان سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے تحریف شدہ ترجمہ قرآن کو پھیلانے میں بھی مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اس کیس میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد قادیانی عناصر نے مقدمہ پر اثر انداز ہوتے ہوئے اس کیس کے تفتیشی افسر کو نا صرف ڈرایا اور دھمکایا تھا بلکہ افسر کو رشوت بھی دینے کی کوشش کی تھی لیکن آیف آئی اے کی افسر نے نا صرف قادیانی عناصر کے دباو اور رشوت کو مسترد کیا تھا بلکہ مقدمہ پر اثر انداز ہونے والے، اور رشوت دینے کی کوشش کرنے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔

قادیانی جماعت اور اسکے نمائندے کافی عرصے سے پاکستان میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف اپنے کفریہ عقائد پر مشتمل مذہب کی تبلیغ میں ملوث رہے ہیں بلکہ یہ قانون شکن افراد بڑی تعداد میں توہین آمیز اور تحریف شدہ مواد بھی پاکستان میں چھاپتے اور بانٹتے رہے ہیں اور اب قادیانی جماعت کے ان افراد کی جانب سے سوشل میڈیا اور مختلف ایپس کے ذریعے سے اس توہین آمیز اور تحریف شدہ مواد کو پھیلایا جا رہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں حکومتی ادارے پی ٹی اے کی جانب سے اسہی قسم کے مواد کو روکنے کے حوالے سے وکی پیڈیا ویب سائٹ کو پاکستان میں بند کیا گیا تھا لیکن کچھ مغرب نواز ، قادیانیت نواز اور سیکولر طبقے کے دباو پر وکی پیڈیا کو پاکستان میں دوبارہ کھول دیا گیا۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اعلٰی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درامد کرتے ہوئے تمام ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس کو بلاک کر دے جن پر توہین آمیز ، نفرت انگیز اور تحریف شدہ مواد موجود ہے اور تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ پاکستان میں اپنے دفاتر کھولیں تا کہ اس قسم کے نفرت انگیز مواد کو روکنے میں مدد مل سکے۔

اس اہم ویڈیو کو بھی دیکھیں

یہ بھی چیک کریں

گوادر: طوفانی بارشیں، متعدد علاقے زیر آب، شہری نقل مکانی پر مجبور

گوادر:بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کئی گھنٹوں تک ہونے …