قادیانی جماعت مذہب کے لبادے میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک منظم اور سازشی سیاسی تحریک ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ ظلم، جبر اور ناانصافی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے بلکہ قادیانی جماعت خود اپنے ہی اراکین کے بنیادی انسانی حقوق، انسانی آزادی اور عزتِ نفس کی مسلسل پامالیوں میں بھی ملوث ہے۔ ماہرین کے مطابق قادیانی جماعت ایک ایسے نظام پر قائم ہے جس میں کلٹ کی تمام تر نمایاں خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
کلٹ دراصل ایک ایسا بند اور جابرانہ سماجی یا مذہبی گروہ ہوتا ہے جو اپنے اراکین کے ذہنوں، جذبات اور طرزِ زندگی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ کلٹ میں قیادت کو مقدس اور ناقابلِ سوال قرار دیا جاتا ہے، اختلافِ رائے کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اراکین کو کلٹ سے باہر کی دنیا سے ذہنی اور سماجی طور پر کاٹ کر رکھا جاتا ہے ۔ کلٹ اپنے ماننے والوں پر خوف، دھمکی اور سماجی دباؤ کے ذریعے گرفت مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ ہر حال میں اپنے رہنما کی اندھی اطاعت کرتے رہیں اور کسی بھی قیمت پر اس نظام سے باہر نہ نکل سکیں۔
مشہور ماہرِ نفسیات اور سماجی محقق ڈاکٹر رابرٹ لفٹن کے مطابق، کلٹ ایک ایسا بند نظریاتی نظام ہوتا ہے جو افراد کی سوچ، احساسات اور رویّوں پر مکمل کنٹرول قائم کر کے ان کی شخصی آزادی سلب کر لیتا ہے۔
کلٹ کی یہ ہی وہ خصوصیات ہیں جو قادیانی جماعت میں جڑوں تک پیوست نظر آتی ہیں۔
قادیانی جماعت ایک آمرانہ ڈھانچے کے تحت چلائے جانے والا گروہ ہے جہاں سخت کنٹرول، ذہنی گرفت، اظہارِ رائے پر پابندی اور معاشی و سماجی دباؤ اس نظام کی بنیادیں ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ قادیانی جماعت کے اراکین نہ صرف اپنی خودمختاری اور شخصی آزادی سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ ایک محدود اور جابرانہ سماجی دائرے میں مسلسل قید رہنے کی وجہ سے اکثر ذہنی و نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ قادیانی جماعت سے الگ ہونے کی کوشش کرتے ہیں، ان پر نہ صرف ذہنی و سماجی دباؤ ڈالا جاتا ہے بلکہ متعدد واقعات میں ایسے افراد کے خلاف جھوٹے مقدمات کا اندراج، جائیدادوں پر قبضے اور حتیٰ کہ جان سے مار دینے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔
قادیانی جماعت کا ایک خطرناک پہلو اس کے اراکین کا مالی استحصال ہے۔ قادیانی جماعت اپنے پیروکاروں سے مختلف عنوانات کے تحت ماہانہ اور دیگر بنیادوں پر کثیر تعداد میں چندے وصول کرتی ہے، جو زیادہ تر زبردستی، دھونس اور مذہبی خوف کے ذریعے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی رکن چندے کی رقم یا اسکے خرچ سے متعلق سوال اٹھائے تو اسے نفسیاتی دباؤ، سماجی بائیکاٹ اور بعض اوقات جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں ایسے افراد ذہنی دباؤ اور سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
میر پور خاص صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے سابق قادیانی محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ

’’ مرزا مسرور یا اس سے پہلے جو قادیانی سربراہ گزرے ہیں انکا طرز زندگی شاہانہ رہا ہے انہیں غریب کی بھوک کے بارے میں کیا علم ؟ یا قادیانی جماعت کے افراد کس طرح (غربت) میں زندگی گزار رہے ہیں انہیں اسکے بارے میں کیا معلوم ؟ جو مزدور پانچ سو روپےکماتا ہے اس میں سے بھی وہ پچاس روپے قادیانی جماعت کو دینے کا پابند ہے، اگر دے گا تو ٹھیک ورنہ قادیانی جماعت اسکے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی،یہ بیچارہ ایک قسم کی دلدل میں پھنس چکا ہے جس کی وجہ سے دوسری جگہ جانے کی اسکی ہمت ہے اور نہ ہی توفیق ‘‘
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سابق قادیانی سعود احمد کا قادیانی جماعت کے جبری چندوں اور استحصال پر مبنی معاشی نظام کے بارے میں کہنا ہے کہ

’’ جب قادیانی جماعت سے میرے اختلافات ہوئے تو انہوں نے میرا کاروبار ختم کروا دیا اور اسکے بعد مجھے ایک خط بھیجا کہ اگر تم نے تین ماہ چندہ نہیں دیا تو قادیانی جماعت سے نام کاٹ دیا جائے گا اسکا مطلب تو صاف ظاہر ہے کہ قادیانی جماعت کو صرف چندوں سے غرض ہے انسانوں یا انسانیت سے نہیں۔ یہ جو باتیں بناتے ہیں کہ لو فار آل یہ لو فار آل صرف چندہ کے لئے ہی ہے پیسہ دو اسکے ساتھ محبت ہے اگر پیسہ نہیں دو گے تو نفرت ہی نفرت اور اس نفرت کا اظہار انہوں نے میرے ساتھ بہت زیادہ کیا ہے ‘‘
ماہرین کے مطابق قادیانی جماعت کے تشدد اور سزا کے طریقے محض لفظی دھمکیوں تک محدود نہیں۔ جن افراد نے قادیانی سربراہ یا جماعتی نظام پر تنقید کی، انہیں چناب نگر،پاکستان میں قائم جماعتی دفاتر کے اندر بنائے گئے خفیہ ٹارچر سیلز میں قید کر کے جسمانی و نفسیاتی اذیت دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد محض سزا دینا نہیں بلکہ متاثرہ شخص کی ہمت اور حوصلہ کو توڑ کر اسے دوبارہ قادیانی جماعت کی مکمل اطاعت پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ ایسے مظلوم افراد اکثر شدید صدمے، ڈپریشن اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ جماعت کی طرف سے انہیں نہ کوئی طبی سہولت دی جاتی ہے اور نہ سماجی مدد۔
عامر منیر کا تعلق چناب نگر سے ہے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے عامر منیر قادیانی جماعت میں بطور مربی کام کرتے رہے ہیں۔ قادیانیت کو چھوڑنے اور اسلام قبول کرنے والوں کے خلاف قادیانی جماعت معاشرتی بائیکاٹ کو کس طرح بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے اس بارے میں عامر منیر کا کہنا ہے کہ

’’ اسلام قبول کرنے کے بعد قادیانی جو حربہ استعمال کرتے ہیں وہ حربہ سوشل بائیکاٹ کا ہے۔ خود بھی بائیکاٹ کرتے ہیں اور والدین سے بھی کرواتے ہیں اور عزیز و اقارب کو بھی فورس کرتے ہیں کہ اس نے مرزا قادیانی کو چھوڑ دیا ہے اس نے جماعت کے اوپر لعنت ڈال دی ہے اب اسکے کے ساتھ کسی قسم کا لین دین نہیں ہے ،معاملات نہیں ہیں اسکو گھر نہیں آنے دینا ، والدین کو فورس کرتے ہیں کہ اگر آپ نے سابق قادیانی بیٹے یا بیٹی کے ساتھ کوئی تعلق رکھا تو ہم آپکو جماعت سے نکال دیں گے۔ میرے خاندان میں ، میں پہلا شخص ہوں جس نے اسلام قبول کیا ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میرے اوپر ظلم وستم بھی کیے گئے ، تشدد بھی کیا گیا جس کے نتیجے میں میری آنکھیں بھی ضائع ہوئیں اور تشدد کے نتیجے میں مجھے بہت سے دیگر مسائل کا سامنا رہا مالی لحاظ سے بھی نقصان پہنچایا گیا، والدین نے گھر سے بے گھر کر دیا جس کے بعد میں مختلف سڑکوں پر بے آسرا پڑا رہا۔ صرف آسمان کی چھت اور زمین میرے پاس تھی اور میرے پاس کوئی سہارا نہیں تھا سوائے اللہ کی ذات کے‘‘
قادیانی جماعت اپنے اراکین کو قابو میں رکھنے کے لیے معاشرتی اور معاشی بائیکاٹ کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ جو لوگ جماعت کے فیصلوں یا پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں یا اس سے الگ ہونے کی کوشش کرتے ہیں انہیں فوراً سماجی بائیکاٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خاندان کے افراد پر دباؤ ڈال کر تعلقات منقطع کرائے جاتے ہیں، روزگار یا کاروبار میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں اور متاثرہ شخص کو مکمل سماجی تنہائی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد انہیں اتنا کمزور کرنا ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ قادیانی جماعت میں واپس آنے پر مجبور ہو جائیں یا مکمل خاموشی اختیار کر لیں۔
آزاد کشمیر، ضلع کوٹلی کے علاقہ گوئی ندھیری سے تعلق رکھنے والے سابق قادیانی محمد آصف شیدائی کا کہنا ہے کہ

’’ جس وقت میں نے اسلام قبول کیا تھا تو قادیانی جماعت نے مجھے ہر طرح سے تکلیف دینے کی کوشش کی ، لڑائی جھگڑے کرنے کی کوشش کی ، بچوں کو اسکول میں مارا۔ انہوں نے تھانوں میں میرے خلاف( جھوٹی) درخواستیں دیں، قادیانیوں نے مجھے دھمکیاں دی کہ واپس (قادیانیت میں) آجاو ورنہ ہم تھمیں چھوڑیں گے نہیں ۔ لیکن میں الحمدللہ ثابت قدم رہا اور انہوں نے جو کرنا ہے کر لیں وہ تو آج یہی کر رہے ہیں ، یہ (قادیانی) لوگوں کو جھانسا دیتے ہیں اگر کوئی مالی لحاظ سے کمزور ہے تو اسے پیسے دیتے ہیں، اگر کسی کا رشتہ نا ہوتا ہو اسےاپنے بچوں، بچیوں کے رشتے دے کر نوازتے ہیں کہ آپ قادیانی ہو جائیں ہم آپکی شادی بھی کروا دیں گے اور جس ملک میں کہیں گے اس ملک کا ویزہ لے دیں گے۔ جب میں نے اسلام قبول کیا تو مجھے اور میری پوری فیملی کو بھی کہا گیا تھا کہ آپ قادیانیت میں واپس آ جائیں، چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر جس ملک کا آپ کہیں گے ہم آپکو ویزہ لیکر دیں گے ‘‘
قادیانی جماعت کے یہ مظالم صرف جماعت کے اندر تک محدود نہیں، جو لوگ قادیانی جماعت کے مظالم کی حقیقت بیان کرتے ہیں اور اسکی پالیسیز پر تنقید کرتے ہیں یا مظلوم اراکین کی مدد کرتے ہیں ان کے خلاف بھی قادیانی جماعت سوشل میڈیا پر منظم انداز میں کردار کشی، دھمکیوں اور پروپیگنڈہ پر مشتمل مہمات چلاتی ہے۔ اس طرح قادیانی جماعت نہ صرف سچ چھپانے کی کوشش کرتی ہے بلکہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے مخالف آوازوں کو دبانے میں بھی ملوث رہتی ہے۔
ثمینہ چندہ سابقہ قادیانی ہیں اور اس وقت بیلجیم میں مقیم ہیں اور انکا آبائی گھر چناب نگر،پاکستان میں موجود ہے جہاں وہ ہر سال چھٹیاں گزارنے آتی ہیں۔ ثمینہ چندہ کو جب ایک روز کسی ضروری کام سے چناب نگر کے بازار جانا پڑا تو اس دوران قادیانی جماعت کے ایک اہلکار کی جانب سے انہیں شدید ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ ثمینہ چندہ کا کہنا ہے کہ

’’ قادیانی جماعت کے سیکیورٹی پر مامور شخص نے مجھے چناب نگر کے داخلہ پوائنٹ کے قریب مین روڈ پر روکا ۔اسکے ساتھ دو اور لوگ بھی کھڑے تھے۔ میں نے سوچا کہ شاید اسکو بھی رکشہ پر بیٹھنا ہے لیکن وہ کہنے لگا آپ آگے نہیں جا سکتی میں نے کہا کیوں؟ اس نے کہا آپ ہمارے لئے مشکوک ہیں۔ میں نے کہا آپکو کیا شک پڑا ہے؟ اسکے جواب میں اسنے کہا کہ (قادیانی جماعت کا) ڈالہ آرہا ہے آپکو پتہ چل جائے گا وہ آپکو پرائیویٹ احاطہ میں لے جا کر تلاشی لیں گے۔ میں نے کہا کہ ادھر ہی تلاشی لے لو میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسکے بعد اسنے اپنی انگلی سے میرے ہاتھ کو دبا کر کہا کہ تمھیں پتہ نہیں چل رہا کہ تم آگے نہیں جا سکتی۔ جب اسنے میرے ہاتھ پر اسطرح کیا تو تو مجھے غصہ آ گیا کہ اسکی یہ جرات کیسے ہوئی کہ وہ مجھے ہاتھ لگائے ۔اسکے بعد میں رکشہ سے نیچے اتر گئی اور میں نے اس سے کہا کہ بلاو اپنا ڈالہ آج میں تمھارا ڈالہ ضرور دیکھوں گی ، بچپن سے اس ڈالہ کا خوف تم لوگوں نے ہمارے ذہنوں میں ڈالا ہوا ہے۔ چھوٹی چھوٹی بچیوں کو جہاں سے مرضی الزام لگا کراٹھا کر لے جاتے ہو کہ یہ بچی ٹھیک نہیں تھی اسکو ڈالہ اٹھا کر لے گیا اور اس بچی کے ماں باپ شرم سے گھر سے ہی نہیں نکلتے ۔ آج تم بلاو اپنا ڈالہ۔ اسکے بعد وہاں کافی لوگ اکھٹے ہوگئے ، بہت سے لڑکے لڑکیاں جنہوں نے مجھے شکایت کی کہ باجی ہم جب بھی چناب نگر کے اس داخلہ پوائنٹ سے کسی ضروری کام سے ، یا دوائی لینے یا تعلیمی اداروں میں جانے کے لئے گزرتے ہیں تو ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے ، ہماری تلاشی لی جاتی ہے اور ہمیں ڈرایا جاتا ہے کہ تمھیں ڈالہ اٹھا کر لے جائے گا۔ کئی بچیوں نے مجھے بتایا کہ ہم نے انکی اس دہشت گردی کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنا ہی بند کر دی ہے ہم گھر میں ہی کوئی کام کر لیں گی مگر قادیانیوں کے اس خوف و ہراس پھیلانے کی وجہ سے باہر نہیں جائیں گی۔ آپ خود دیکھیں کہ قادیانیوں کی اس دہشت گردی کی وجہ سے کتنے لوگ متاثر ہو رہے ہیں‘‘
قادیانی جماعت کے جرائم کا ایک اور سنگین پہلو قادیانی جماعت چھوڑنے والوں یا اپنے مخالفین کے بچوں کو زبردستی چھین لینا ہے۔ ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں قادیانی جماعت چھوڑنے والے افراد کے بچوں کو ان سے الگ کر دیا گیا۔ بعد ازاں ان بچوں کے ذہنوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری گئی اور انہیں اپنے والدین کے خلاف بھی بھڑکایا گیا جو کہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی کنونشنز کی بھی صریح پامالی ہے۔
ارشد اعجاز کا تعلق فیصل آباد ،پاکستان سے ہے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے ارشد اعجاز قادیانی جماعت میں بطور مربی (مشنری) کام کرتے رہے ہیں ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد قادیانیوں کی جانب سے انہیں شدید ذہنی اور معاشرتی دباو کا نشنانہ بنایا گیا، انکے بچوں کو چھین لیا گیا اور انکو وراثتی جائداد حاصل کرنے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا۔ اس بارے میں ارشد اعجاز کا کہنا ہے کہ

’’ جب کوئی قادیانی یا کوئی بھی غیر مسلم کسی اور مذھب کو چھوڑ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بظاہر یہ (قادیانی جماعت والے) بڑے معصوم بنتے ہیں ، دیکھنے میں تو بھولے بھالے لگتے ہیں اور ہمارے (بعض) مسلمان بھی کہتے ہیں کہ انکا اخلاق بہت اچھا ہے یا یہ (قادیانی) تو بڑے نرم دل کے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ یے کہ انہوں نے میری اہلیہ کا برین واش کیا کہ یہ تو پاگل ہوگیا ہے تم اسکے پیچھے لگ کے قادیانی جماعت کو نا چھوڑ دینا اور اسکو انہوں نے (قادیانی جماعت کے ) دفاتر میں بلا کر اسکے بھائیوں کے سامنے اس بات پر پکا کیا کہ تم اس سے خلع لے لو گی ، یعنی اگر میں دوبارہ قادیانی جماعت میں واپس نا آیا تو میری اہلیہ میرے سے خلع لے لے گی اور چونکہ بچے چھوٹے ہیں اس لئے بچے بھی مجھے نہیں ملیں گے اور اس ہی طرح میرے والدین کو بھی انہوں نے دباو کا شکار کیا کہ خبردار اسکو تم نے گھر میں نہیں آنے دینا اور اسکو جائیداد میں سے کوئی حصہ بھی نہیں دینا اور اب دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے مجھے ایک روپیہ بھی والدین کی طرف سے جائیداد میں سے نہیں ملا اور نا ہی وہ دے رہے ہیں انکا اصل مقصد یہ ہے کہ اسکو تنگ کرو جتنا تنگ کریں وہ (قادیانی) اسکو ثواب کا کام سمجھتے ہیں ‘‘
اس کے ساتھ ہی قادیانی جماعت اپنے مخالفین کی جائیدادوں اور اثاثوں پر ناجائز قبضہ کرنے میں بھی ملوث پائی گئی ہے۔ جو شخص بھی جماعت سے اختلاف کرے یا اسے چھوڑنے کی کوشش کرے، قادیانی جماعت اپنے غنڈوں کے ذیعے انکی جائدادوں پر قبضے کر لیتی ہے ۔ یہ عمل نہ صرف مجرمانہ اور غیر قانونی ہے بلکہ کسی بھی فرد کے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
محمد طاہر کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقہ جھڈو سے ہے اور محمد طاہر ایک اسکول میں بطور ٹیچر ملازمت کررہے ہیں۔جب محمد طاہر کے خاندان والوں کو انکے اسلام قبول کرنے کا علم ہوا تو انہوں نے محمد طاہر کو نا صرف ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا بلکہ انکی جائیداد پر قبضہ بھی کر لیا گیا۔ اس بارے میں محمد طاہر کا کہنا ہے کہ

’’ جس دن میں قادیانیت کو چھوڑ کر اپنی بیوی اور بچے کے ہمراہ اسلام قبول کرنے کے لئے نکلا تو ابھی میں گھر واپس نہیں آیا تھا کہ میرے خاندان اور برادری والوں کو اسکی اطلاع مل گئی۔قادیانیت چھوڑنے اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے میری برادری نے میرے گھر پر قبضہ کر لیا، میرے گھرکا سارا سامان اٹھا کر لے گئے جس میں میرے ضروری کاغذات بھی تھے۔اصل میں انکو میرے اسلام قبول کرنے اور قادیانیت کو چھوڑنے پر انتہائی غصہ تھا ‘‘
مزید یہ کہ قادیانی جماعت نے ایک غیر قانونی عدالتی نظام بھی قائم کر رکھا ہے جس کا مقصد اپنی بالادستی برقرار رکھنا اور اختلاف رائے کو ظلم و جبر کے ذریعے دبانا ہے۔ ان نام نہاد "عدالتوں” کے فیصلے انصاف، شفافیت اور قانونی معیار سے بالکل عاری ہوتے ہیں، اور جو قادیانی ان فیصلوں کو تسلیم نہ کرے اسے سماجی بائیکاٹ اور معاشی و معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
محمود عارف کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے اور یہ آجکل جرمنی میں مقیم ہیں۔محمود عارف کا آبائی گھر چناب نگر میں موجود ہے جہاں قادیانی جماعت کے غنڈوں کی جانب سے انکے گھر پر قبضہ کر لیا گیا ۔ قادیانی جماعت کے بااثر اور غنڈہ عناصر سے قبضہ چھڑوانے کے لئے جب محمود عارف نے قادیانی جماعت کی نجی عدالت سے رجوع کیا تو محمود عارف کو خود اپنی ہی جماعت یعنی قادیانی جماعت کی جانب سے نا انصافی ،استحصال ، تشدد اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔اس بارے میں محمود عارف کا کہنا ہے کہ

’’ میرا نام محمود عارف ہے اور پیدائشی طور پر میں ایک احمدی (قادیانی) ہوں۔ میرا آبائی اور وراثتی گھر چناب نگر کے علاقہ دارالصدر میں موجود ہے۔ چناب نگر میں جماعت کے سرکردہ افراد کا ایک مافیا گروپ بنا ہوا ہے جو بیرونی ممالک میں مقیم افراد(قادیانیوں) کے پلاٹوں پر قبضے کر لیتے ہیں اور اگرکوئی انکے سامنے اپنے حق کی آواز کو بلند کرے تو اسکو ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے اور قتل بھی کروا دیا جاتا ہے لیکن انکی یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے افراد کو ڈرا کر چناب نگر سے بھگا دیا جائے۔میرا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے میرا چناب نگر میں ذاتی گھر ہے جو ڈھائی تین کروڑ مالیت کا ہے اور یہ دارالصدر میں موجود ہے۔میرا بھانجا جو کہ قادیانی جماعت میں مربی ہے وہ میرے اس مکان پر قبضہ کیے ہوئے ہے اور قادیانی جماعت میرے پر دباو ڈال رہی ہے کہ تم یہ مکان چھوڑ دو۔میں نے اس بارے میں جماعت کو کئی درخواستیں دیں جس کا ریکارڈ میرے پاس موجود ہے لیکن جماعت والوں نے میری کسی درخواست کا جواب نہیں دیا اور ہر بار یہ ہی کہتے ہیں کہ تم ادھر سے دفعہ ہو جاو ورنہ تمھارے ساتھ بہت برا سلوک کیا جائے گا ‘‘
قادیانی جماعت کی مجرمانہ سرگرمیوں اور اس کے اندر قائم کلٹ جیسے نظام کے اثرات صرف اراکین تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ ایسے نظام میں رہنے والے افراد وقت کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادی سوچ، شعور اور سماجی احساس کھو بیٹھتے ہیں۔ خوف، اندھی اطاعت اور ذہنی غلامی ان کی زندگیوں کا حصہ بن جاتی ہے اور قادیانی جماعت سے باہر کی دنیا ان کے لیے اجنبی اور خطرناک بنا دی جاتی ہے۔ قادیانی جماعت کے یہ رویے نہ صرف اپنے ماننے والوں کو ایک مصنوعی اور جابرانہ فکری حصار میں قید رکھتے ہیں بلکہ سماج میں فکری انتشار، مذہبی منافرت اور انتہا پسند رویوں کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ یہی وہ المیہ ہے جو قادیانی جماعت کو ایک ایسے بند، خود ساختہ اور خطرناک کلٹ میں تبدیل کر چکا ہے جوکہ انسانیت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔
ضلع سیالکوٹ کے علاقہ پسرور کے نواحی گاوں میں قادیانیوں کی جانب سے مسلمانوں کی مسجد پر غیر قانونی قبضہ کر لیا گیا۔ جب علاقہ کے مسلمان قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسکی اطلاع کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے لئے جارہے تھے تو اسہی دوران علاقہ میں موجود شددت پسند قادیانیوں نے مسلمانوں پر نا صرف تشدد کیا بلکہ فائرنگ بھی کی جس سے دو مسلمان شدید زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کے عینی شاہد اور زخمی اکمل شاہین کا کہنا ہے کہ

’’ جب ہم قانونی کاروائی کے لئے گھر سے باہر نکلے تو قادیانیوں کو اسکا پتہ چل گیا کہ یہ مسجد چھڑوانے کے لئے جا رہے ہیں تو انہوں نے ہمارے اوپر فائرنگ شروع کر دی، انہوں نے ہمیں فائر مارے ، ،ڈنڈے مارے ، اینٹیں ماریں اور ہمیں ادھر تشدد کر کے گرا دیا ‘‘
واقعہ کے دوسرے عینی شاہد اور زخمی یاسر کا کہنا ہے کہ

’’ ہم مسلمان بھائی مسجد حاصل کرنے کے لیے قانونی کاروائی کے لیے جا رہے تھے ،ہمیں راستے میں احمدیوں( قادیانیوں) نے روکا اور ہم پہ فائر کیا اور ہمیں زخمی حالت میں اینٹیں وغیرہ ماریں ،مجھے گولی لگی ہے اور میرے کزن کو بھی ایک فائر لگا ۔ قادیانی اس علاقہ میں پہلے بھی دہشت گردی کرتے رہتے ہیں اور اہل علاقہ کو ڈراتے اور دھمکاتے رہتے ہیں اور فائرنگ بھی کرتے رہتے ہیں اور (دیگر) قادیانیوں نے انہیں کافی تعداد میں اسلحہ لیکر دیا ہوا ہے اور یہ (قادیانی) ہم مظلوم لوگوں کو تنگ کرتے رہتے ہیں ‘‘
ان تمام مظالم، جبر اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے پیش نظر عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ قادیانی جماعت کے اس غیر انسانی کلٹ نما نظام کے خلاف آواز بلند کریں۔ اس جماعت کی خفیہ معاشی سرگرمیوں، پر تشدد کارروائیوں اور غیر قانونی عدالتی ڈھانچوں کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ متاثرین خاص طور پر سابق قادیانیوں کو قانونی، نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ بحال کر سکیں۔
ریاستِ پاکستان کے اداروں کو بھی آئین اور قانون کے تحت قادیانی جماعت اور اس کے سربراہ مرزا مسرور کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے ادارے، میڈیا اور پریشر گروپس کو اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ مظلوم افراد کو انصاف مل سکے اور کسی بھی گروہ کو مذہب کی آڑ میں ظلم و جبر کا نظام قائم کرنے سے روکا جا سکے۔
آخر میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مذہبی آزادی، انسانی وقار اور بنیادی انسنانی حقوق کا تحفظ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جہاں کہیں بھی طاقت یا خوف کے نام پر انسانیت کو کچلا جا رہا ہو، وہاں عالمی برادری کے ضمیر کو بیدار ہونا چاہیے تاکہ مذہب کے لبادے میں چھپی قادیانی سازشی تحریک اور قادیانی کلٹ کی مجرمانہ سرگرمیوں کا مکمل خاتمہ ہو سکے ۔
